غیبت
غیبت“ کہتے ہیں کسی کی پیٹھ پیچھے اس کی ایسی برائی کرناجوواقعی اس میں موجودہواور سننے پر اس کو ناگوار گذرے ،اور اگر یہ برائی اس میں موجود نہیں تو یہ بہتان ہے ۔کسی کی غیبت کرنے یا اس پر تہمت لگانے پر قرآن واحادیث میں سخت وعیدیں آئی ہیں۔عن أبی ہریرة قال: قیل یا رسول اللہ !ماالغیبة؟قال:ذکرک أخاک بما یکرہ،قلت أفرأیت ان کان في أخی ما أقول؟قال:ان کان فیہ ماتقول فقد اغتبتہ وان لم یکن فیہ ماتقول فقد بہتہ․(أبوداؤ:۲/۲۶۸،کتاب الأدب ،باب فی الغیبة)
ابوہریرہسے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیااے اللہ کے رسول!غیبت کیا ہے؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تمھارا اپنا بھائی کا ایسے انداز میں ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو ،کہاگیا جو بات میں کہہ رہاہوں اگر وہ میرے بھائی میں ہو؟(تو وہ بھی غیبت کہلائے گی) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :اگر وہ بات اس میں موجود ہو اور تم کہوتب ہی تو غیبت ہے ،اگر تم کوئی ایسی بات کہو جو اس میں نہ ہو تو تم نے اس پر بہتان لگایا
قال تعالی: ولا یغتب بعضکم بعضاً أیحب أحدکم أن یأکل لحم أخیہ میتاً فکرہتموہ․
”اور کوئی کسی کی غیبت نہ کیا کرے(آگے غیبت کی مذمت ہے کہ)کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھالے اس کو توتم(ضرور) براسمجھتے ہو (تو تم سمجھ لو کہ کسی بھائی کی غیبت بھی اسی کے مشابہ ہے)۔(ترجمہ معارف القرآن:۸/۱۱۸،۱۱۹)
عن أنس بن مالک قال قال رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :لماعرج بي مررت بقوم لہم أظفار من نحاس یخشون وجوہہم وصدورہم قلت:من ہولآء یا جبرئیل؟قال ہولآء الذین یأکلون لحوم الناس ویقعون في أعراضہم ․
انس بن مالکبیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :معراج کے دن میرا گذر ایک ایسی قوم پر ہوا جن کے ناخن تانبے کے تھے جو اپنے چہرے اور سینوں کو چھیل رہے تھے ،میں نے کہا یہ کون لوگ ہیں؟حضرت جبرئیل علیہ السلام نے کہا: یہ وہ لوگ ہیں جودوسرے لوگوں کا گوشت کھاتے تھے اور ان کی عزتوں سے کھیلتے تھے۔(أبوداؤ:۲/۲۶۸،کتاب الأدب ،باب فی الغیبة)قال النبی صلی اللہ علیہ وسلم ”یا معشر من آمن بلسانہ لا تغتابوا المسلمین ولا تتبعوا عوراتہم ؛فانہ من یتبع عورةَ أخیہ یتبع اللہ عورتہ ومن یتبع اللہ عورتہ یفضحہ في بیتہ․
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرمایا:اے وہ لوگوں جو اپنی زبانوں سے ایمان لائے ہو مگر ایمان ان کے دلوں میں نہیں اتراہے،مسلمانوں کی بدگوئی نہ کیا کرواور نہ ان ان کے عیوب کے درپہ ہوا کرو بلاشبہ جو شخص ان کے عیوب کے درپے ہوگا اللہ تعالی اس کے عیوب کے درپے ہوں گے اور اللہ جس کے عیوب کے درپے ہوں گے تو اسے اس کے گھر کے اندر رسوا کردیں گے۔(أبوداؤ:۲/۲۶۹،کتاب الأدب ،باب فی الغیبة)
عن أبی ہریرةقال :قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم :کل المسلم علی المسلم حرام ،مالہ وعرضہ ودمہ،حسب امرء من الشر أن یحقر أخاہ المسلم․
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :ایک مسلمان کے لیے دوسرے مسلمان کامال،عزت اور خون حرام ہے،آدمی کے براہونے کے لیے یہ کافی ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کو حقیر جانے۔(أبوداؤ:۲/۲۶۹،کتاب الأدب ،باب فی الغیبة)
کسی پر تہمت لگانے کے سلسلے میں بھی قرآن وحدیث میں سخت وعید آئی ہے،زنا کی تہمت لگانے پر قرآن شریف میں ہے:
ان الذین یرمون المحصنات الغافلات المومنات لعنوا في الدنیا والآخرة ولہم عذاب عظیم
”جولوگ تہمت لگاتے ہیں ،پاکدامن،بے خبر رہنے والی ،مومنہ عورتوں پر ان کو پھٹکار ہے دنیا اور آخرت میں اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے“۔
اور حدیث شریف میں ہے: اجتنبواا السبع الموبقات،قیل یا رسول اللہ وماہن؟․․․قذف المحصنات
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سات ہلاک کرنے والی چیزوں سے بچنے کا حکم فرمایا جن میں ایک پاکدامن عورت پر تہمت لگانا(بھی ہے)(أبوداؤ:۱/۳۹۷،باب ماجاء فی التشدید فی أکل مال الیتیم )
بعض اسلاف سے ان کے علاج کا طریقہ اس طور پرلکھا ہے کہ:
(۱) ان گناہوں سے بچنے کے لیے ہمت کی جائے کہ اب آئندہ زبان سے کسی کی غیبت نہیں کروں گا اور نہ کسی پر غلط بات کی تہمت لگاؤں گا۔(۲) ان کا خیال آنے پر قرآن واحادیث میں مذکوروعیدوں کا استحضار کیا جائے۔
نیز اگر کسی نے غیبت کرلی ہویا بہتان لگایا ہو تو چاہیے کہ جس کی غیبت کی ہو یا جس پر بہتان لگایا ہواس سے معافی تلافی کرلی جائے اور اس کے لیے توبہ واستغفار کیا جائے۔
غیبت اور بہتان میں فرق
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غیبت کی حقیقت اپنے اس فرمان میں بیان کی ہے:
((ذِكْرُكَ أَخَاكَ بِمَا يَكْرَهُ))" تمہارا اپنے بھائی کا کسی عیب کے ساتھ ذکر کرنا جسے وہ ناپسند کرتا ہو." یعنی وہ عیب بیان کرنا جن کا تعلق اس کے خلقت سے ہو یا اس کے خلق سے، چنانچہ تمہارا اپنے بھائی کی غیر موجودگی میں اس کا کسی عیب کے ساتھ تذکرہ کرنا ہی غیبت ہے، اس کی غیر موجودگی میں ایسا کرنے کی وجہ سے اسے" غیبت" کہتے ہے، لیکن اگر تم اس کی ناپسندیدہ باتوں کو اس کے سامنے بیان کرو تو یہ سب و شتم اور گالی گلوچ ہوگی اور یہ اس صورت میں ہے جب اس کے اندر واقعی وہ عیب موجود ہوں جن کے ساتھ تم اس کا اس کی موجودگی غیر موجودگی میں ذکر کر رہے ہو، لیکن اگر اس میں وہ عیب نہ پائے جائیں تو یہ بہتان یعنی جھوٹ شمار ہوگا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا: اگر وہ عیب جسے میں بیان کر رہا ہوں اس شخص کے اندر موجود ہوں؟ ( پھر تو غیبت نہیں ہو گی جیسا کہ آج بھی لوگ غیبت کے جواز میں اس قسم کی دلیل دیا کرتے ہیں) آپ نے فرمایا:
((إِنْ كَانَ فِيهِ مَا تَقُولُ فَقَدْ اغْتَبْتَهُ وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهِ فَقَدْ بَهَتَّهُ)) "جو کچھ تم کہتے ہو، اگر اس میں موجود ہو تو تم نے اس کی غیبت کی، اگر اس میں وہ (عیب) موجود نہیں تو تم نے اس پر بہتان لگایا ہے" (صحيح مسلم :7/2589)
مذکورہ گفتگو کی روشنی میں غیبت اور بہتان کا فرق کچھ یوں ہے کہ غیبت تو وہ ہے کہ وہ آدمی جس کی غیر موجودگی میں اس کے جس عیب کو بیان کیا گیا ہے، اس میں وہ عیب موجود ہو، اور بہتان یہ ہے کہ کسی کے حوالے سے بیان کردہ عیب اس میں موجود نہ ہو، بلکہ جھوٹ بول کر اس پر بہتان لگایا جائے، اس وقت یہ صورت حال غیبت اور بہتان کا مرکب اور مجموعہ بن جائے گی.
واللہ تعالیٰ اعلم
No comments:
Post a Comment