مومن کے لیے مشروع ہے کہ وہ اپنی نماز میں دعا کے مقامات پر دعا کرے، خواہ نماز فرض ہویا نفل ہو۔ نماز میں دعا کے مقامات یہ ہیں ۔ سجدہ میں اور دوسجد وں کے درمیان جلسہ میں اور نماز کے آخری تشہد میں نبیﷺ پر دور پڑھنے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے جیسا کہ نبیﷺ سے ثا بت ہے کے آپ دنوں سجدوں کے درمیان جسلہ مغفرت طلب ک رتے تھے اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ دونوں سجدوں کی درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے’’ اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے راہ راست پر قائم رکھ ، میری اصلاح فرمای، مجھے رز ق عطا فرما اور مجھے میں رکھ ، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((فَأَمَّا الرُّکُوعُ فَعَظِّمُوْا فِیہِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَہِدُوا فِی الدُّعَآئِ فَقَمِنٌ أَنْ یُّسْتَجَابَ))
’’ رکوع میں اپنے پرودگار کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدہ میں بہت دعا کیا کرو۔ پس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوجاے‘‘
اس حدیث کو مسلم نے اپنی صحیح میں نکالا۔ نیز مسلم ہی نے ابوہریرہ رضى الله عنه سے تخریک کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
((أقربُ مایکونُ العبدُ من ربَّہ وہ و ساجدٌ ، فأکْثِرُوا الدُّعائ))
’’ بندہ اپنے پرودگار کے سب سے زیادہ نزدیک اس وقت ہوتاہے جب وہ سجدہ میں ہو لہٰذا سجدہ میں دعا زیادہ کیا کرو‘‘
اور صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضى الله عنه سے مروی ہے کہ جب نبیﷺ نے انہیں تشہد سکھلایا تو فرمایا: ’ پھر جو سوال تم اللہ سے چاہو کر و‘‘ اور اس معنی میں اور بھ بہت سی احادیث ہیں ، جو ان مقامات میں دعا کی مشروعیت پردلالت کر تی ہیں ، جو دعا بھی مسلمان پسند کرتا ہو، خواہ یہ دعا آخرت سے متعلق ہو یا نیوی مصالح سے متعلق ہومگر شرط یہ ہے کہ یہ دعا کسی گناہ کے کام اور قطع رحمی سے متعلق نہ ہوا ور افضل یہ ہے کہ اکثر نبیﷺ سے ماثور دعائیں ہی مانگے۔
نماز کے سجدوں میں ہر جائز ، مباح دعاء
کرنا مستحب امر ہے ، نبی مکرم ﷺ نے اسکی ترغیب دلائی ہے ،
« عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَشَفَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ السِّتَارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوفٌ خَلْفَ أَبِي بَكْرٍ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّهُ لَمْ يَبْقَ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ إِلَّا الرُّؤْيَا الصَّالِحَةُ، يَرَاهَا الْمُسْلِمُ، أَوْ تُرَى لَهُ، أَلَا وَإِنِّي نُهِيتُ أَنْ أَقْرَأَ الْقُرْآنَ رَاكِعًا أَوْ سَاجِدًا، فَأَمَّا الرُّكُوعُ فَعَظِّمُوا فِيهِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ، وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»
ترجمہ :
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے (مرض الموت میں اپنے کمرہ کا) پردہ اٹھایا، (دیکھا کہ) لوگ جناب ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صف باندھے نماز پڑھ رہے ہیں ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”لوگو! نبوت کی بشارتوں (خوشخبری دینے والی چیزوں) میں سے اب کوئی چیز باقی نہیں رہی سوائے سچے خواب کے جسے مسلمان خود دیکھتا ہے یا اس کے سلسلہ میں کوئی دوسرا دیکھتا ہے، مجھے رکوع اور سجدہ کی حالت میں قرآن پڑھنے سے منع کر دیا گیا ہے، رہا رکوع تو اس میں تم اپنے رب کی بڑائی بیان کیا کرو، اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعاء میں خوب کوشش کرو ، کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے“۔
صحیح مسلم/الصلاة ۴۱ (۴۷۹)، سنن النسائی/التطبیق ۸ (۱۰۴۶)، ۶۲ (۱۱۲۱)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا ۱ (۳۸۹۹)، (تحفة الأشراف: ۵۸۱۲)، وقد أخرجہ: مسند احمد (۱/۲۱۹)، (۱۹۰۰)، سنن الدارمی/الصلاة ۷۷ (۱۳۶۴)
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
محمد صالح المنجد حفظہ اللہ لکھتے ہیں :
هل يجوز الدعاء المطلق في الفرائض - الصلوات المكتوبة - ؟
سوال :۔ کیا فرض نمازوں میں کوئی بھی بھی دعاء کی جا سکتی ہے ؟
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
الجواب :
الحمد لله
يستحب للمصلي – سواء كانت صلاة فريضة أم نافلة – أن يجتهد في الدعاء في الصلاة في موضعين اثنين : في السجود ، وقبيل التسليم ، وفي صلاة الوتر عند القنوت أيضا ، فقد جاءت الأدلة الصحيحة تدل على ذلك ، وذلك فيما رواه الإمام مسلم رحمه الله في صحيحه (479) عن ابن عباس رضي الله عنهما أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : (وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ ، فَقَمِنٌ – أي : جدير وحقيق - أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ) .
نمازی کیلئے مستحب ہے کہ وہ فرض نماز ہو یا نفلی نماز پوری کوشش سے نماز میں دو مقام پر دعاء کرے ،ایک سجدوں میں ،اور دوسرا سلام سے پہلے (تشہد اور درود کے بعد ) اور اسی نماز وتر میں قنوت میں ۔ اس پر کئی صحیح واضح دلائل وارد ہیں ،جیسا کہ صحیح مسلم میں ابن عباس ؓ کی حدیث موجود ہے جس میں امام الانبیاء ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے کہ نماز کے سجود میں بڑے اہتمام سے دعائیں کیا کرو ،کیونکہ اس مقام پہ قبولیت کا زیادہ امکان ہے ؛؛
وقد بين كثير من الفقهاء كالمالكية والشافعية أن الدعاء في هذين الموضعين – في السجود ، وقبيل التسليم – هو من الدعاء المطلق ، فلا يشترط أن يكون واردا بنصه في الكتاب والسنة ، بل للمصلي أن يدعو بحاجاته الدنيوية والدينية بأي صيغة كانت ، وله أن يسأل الله تعالى ما شاء من خيري الدنيا والآخرة ، وإن لم يكن هذا الدعاء مأثورا في كتب السنة .
اور بہت سارے مالکی اور شافعی فقہاء نے اس بات کی وضاحت کی ہے کہ سجدوں میں اور سلام سے قبل مطلق دعاء کی اجازت ہے ،یہ شرط نہیں کہ صرف قرآن و سنت میں وارد خاص ادعیہ ہی کی جائیں ، بلکہ نمازی کو اختیار ہے کہ اپنی دینی اور دنیاوی حاجات کے متعلق کسی بھی صیغہ میں دعائیں کرسکتا ہے ، اور اپنے مالک سے دنیا و آخرت کی ’’ خیر ‘‘ جو چاہے سوال کرسکتا ہے ، اگر وہ دعاء احادیث میں وارد نہ بھی ہو پھر بھی نماز کے ان مقامات پر کرنی جائز و مستحب ہے ،
والدليل عليه إطلاق الحديث السابق : (فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ) ، حيث أطلق الاجتهاد في اختيار الدعاء ، ولم يشترط وروده في الكتاب والسنة .
اس پر حدیث مذکورہ کا یہ جملہ دلیل ہے جس میں پیارے نبی نے فرمایا ( تم سجدوں میں اہتمام ،کوشش سے دعاء کیا کرو ) یہاں دعاء کو مطلق رکھا ، اور کتاب و سنت کی منقول دعاء کی شرط نہیں لگائی ‘‘
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا :
وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»
اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعاء میں خوب کوشش کرو ، کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے“۔
صحیح مسلم/الصلاة ۴۱ (۴۷۹)، سنن النسائی/التطبیق ۸ (۱۰۴۶)، ۶۲ (۱۱۲۱)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا ۱ (۳۸۹۹)
وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَهِدُوا فِي الدُّعَاءِ، فَقَمِنٌ أَنْ يُسْتَجَابَ لَكُمْ»
اور رہا سجدہ تو اس میں تم دعاء میں خوب کوشش کرو ، کیونکہ یہ تمہاری دعا کی مقبولیت کے لیے زیادہ موزوں ہے“۔
صحیح مسلم/الصلاة ۴۱ (۴۷۹)، سنن النسائی/التطبیق ۸ (۱۰۴۶)، ۶۲ (۱۱۲۱)، سنن ابن ماجہ/تعبیر الرؤیا ۱ (۳۸۹۹)
مومن کے لیے مشروع ہے کہ وہ اپنی نماز میں دعا کے مقامات پر دعا کرے، خواہ نماز فرض ہویا نفل ہو۔ نماز میں دعا کے مقامات یہ ہیں ۔ سجدہ میں اور دوسجد وں کے درمیان جلسہ میں اور نماز کے آخری تشہد میں نبیﷺ پر دور پڑھنے کے بعد اور سلام پھیرنے سے پہلے جیسا کہ نبیﷺ سے ثا بت ہے کے آپ دنوں سجدوں کے درمیان جسلہ مغفرت طلب ک رتے تھے اور یہ بھی ثابت ہے کہ آپ دونوں سجدوں کی درمیان یہ دعا پڑھا کرتے تھے’’ اے اللہ مجھے بخش دے، مجھ پر رحم فرما، مجھے راہ راست پر قائم رکھ ، میری اصلاح فرمای، مجھے رز ق عطا فرما اور مجھے میں رکھ ، نیز رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
((فَأَمَّا الرُّکُوعُ فَعَظِّمُوْا فِیہِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَہِدُوا فِی الدُّعَآئِ فَقَمِنٌ أَنْ یُّسْتَجَابَ))
’’ رکوع میں اپنے پرودگار کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدہ میں بہت دعا کیا کرو۔ پس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوجاے‘‘
رواه مسلم في (الصلاة) برقم (738)، وأبو داود في (الصلاة) برقم (742)، وأحمد في (مسند العشرة المبشرين بالجنة) برقم (1260) و(مسند بني هاشم) برقم (1801).
نیز امام مسلم ہی نے سیدنا ابوہریرہ رضى الله عنه سے تخریج کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
((أقربُ مایکونُ العبدُ من ربَّہ وہ و ساجدٌ ، فأکْثِرُوا الدُّعائ))
’’ بندہ اپنے پرودگار کے سب سے زیادہ نزدیک اس وقت ہوتاہے جب وہ سجدہ میں ہو لہٰذا سجدہ میں دعا زیادہ کیا کرو‘‘
رواه مسلم في (الصلاة) برقم (744) وأحمد في (باقي مسند المكثرين) برقم (9083).
اور صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضى الله عنه سے مروی ہے کہ جب نبیﷺ نے انہیں تشہد سکھلایا تو فرمایا: ’ پھر جو سوال تم اللہ سے چاہو کر و‘‘
رواه مسلم في (الصلاة) برقم (609)
نیز دیکھئے : رواه النسائي في (السهو) برقم (1281) ، وأبو داود في (الصلاة) برقم (825).
اور اس معنی میں اور بھی بہت سی احادیث ہیں ، جو ان مقامات میں دعا کی مشروعیت پردلالت کر تی ہیں ، جو دعا بھی مسلمان پسند کرتا ہو، خواہ یہ دعا آخرت سے متعلق ہو یا نیوی مصالح سے متعلق ہومگر شرط یہ ہے کہ یہ دعا کسی گناہ کے کام اور قطع رحمی سے متعلق نہ ہوا ور افضل یہ ہے کہ اکثر نبیﷺ سے ماثور دعائیں ہی مانگے۔
((فَأَمَّا الرُّکُوعُ فَعَظِّمُوْا فِیہِ الرَّبَّ عَزَّ وَجَلَّ وَأَمَّا السُّجُودُ فَاجْتَہِدُوا فِی الدُّعَآئِ فَقَمِنٌ أَنْ یُّسْتَجَابَ))
’’ رکوع میں اپنے پرودگار کی عظمت بیان کیا کرو اور سجدہ میں بہت دعا کیا کرو۔ پس لائق ہے کہ تمہاری دعا قبول ہوجاے‘‘
رواه مسلم في (الصلاة) برقم (738)، وأبو داود في (الصلاة) برقم (742)، وأحمد في (مسند العشرة المبشرين بالجنة) برقم (1260) و(مسند بني هاشم) برقم (1801).
نیز امام مسلم ہی نے سیدنا ابوہریرہ رضى الله عنه سے تخریج کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا:
((أقربُ مایکونُ العبدُ من ربَّہ وہ و ساجدٌ ، فأکْثِرُوا الدُّعائ))
’’ بندہ اپنے پرودگار کے سب سے زیادہ نزدیک اس وقت ہوتاہے جب وہ سجدہ میں ہو لہٰذا سجدہ میں دعا زیادہ کیا کرو‘‘
رواه مسلم في (الصلاة) برقم (744) وأحمد في (باقي مسند المكثرين) برقم (9083).
اور صحیحین میں عبداللہ بن مسعود رضى الله عنه سے مروی ہے کہ جب نبیﷺ نے انہیں تشہد سکھلایا تو فرمایا: ’ پھر جو سوال تم اللہ سے چاہو کر و‘‘
رواه مسلم في (الصلاة) برقم (609)
نیز دیکھئے : رواه النسائي في (السهو) برقم (1281) ، وأبو داود في (الصلاة) برقم (825).
اور اس معنی میں اور بھی بہت سی احادیث ہیں ، جو ان مقامات میں دعا کی مشروعیت پردلالت کر تی ہیں ، جو دعا بھی مسلمان پسند کرتا ہو، خواہ یہ دعا آخرت سے متعلق ہو یا نیوی مصالح سے متعلق ہومگر شرط یہ ہے کہ یہ دعا کسی گناہ کے کام اور قطع رحمی سے متعلق نہ ہوا ور افضل یہ ہے کہ اکثر نبیﷺ سے ماثور دعائیں ہی مانگے۔

No comments:
Post a Comment