Saturday, December 10, 2022

اے لوگو ! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو

 أسلام عليكم ورحمة وبركاته - أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قالَ: أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشوا السَّلامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصَلُّوا باللَّيْل وَالنَّاسُ نِيامٌ، تَدخُلُوا الجَنَّةَ بِسَلامٍ.

عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”اے لوگو ! سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور رات میں جب لوگ سوتے ہوں اُس وقت نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے“

حدیث میں چار بہت اچھی خصلتوں اور صفات کو اپنانے کی ترغیب اور توجہ دلائی گئی ہے اور جو شخص ان کے ساتھ متصف ہوجاتا ہے وہ جنت میں چلا جاتا ہے۔ یہ چار صفات یہ ہیں: سلام کو عام کرنا، صلہ رحمی کرنا، کھانا کھلانا، اور رات کو نماز پڑھنا جب کہ لوگ سو رہے ہوں۔ ”سلام کو پھیلاؤ“ یعنی سلام کو علانیہ عام کرو اور کثرت کے ساتھ کرو اور جو ضرورت مند ہو اسے کھانا کھلاؤ جیسے آپ کے اہل و عیال میں سے آپ کی بیویاں اور آپ کے گھر میں آپ کی بیٹے اور بیٹیاں ہیں۔ جب بندہ رات کو اللہ عز وجل کے لئے تہجد پڑھنے کے لئے کھڑا ہوتا ہے، اس کے کلام کے ساتھ اور اس سے دعا کی صورت میں اس کا تقرب حاصل کرنے کی نیت سے پورے خشوع کے ساتھ اس کی بارگاہ میں حاضر ہوتا ہے اور لوگ اس وقت سو رہے ہوتے ہیں تو یہ ایک بہت ہی افضل عمل شمار ہوتا ہے جو بلا عقاب و عذاب جنت میں داخلے کا سبب بنتا ہے

‘Abdullah bin Salam said:

“When the Prophet (ﷺ) came to Al-Madinah, the people rushed to meet him, and it was said: ‘The Messenger of Allah (ﷺ) has come! The Messenger of Allah (ﷺ) has come! The Messenger of Allah (ﷺ) has come!’ Three times. I came with the people to see him, and when I saw his face clearly, I knew that his face was not the face of a liar. The first thing I heard him say was when he said: ‘O people! Spread (the greeting of) Salam, feed others, uphold the ties of kinship, and pray during the night when people are sleeping, and you will enter Paradise with Salam.”*

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عَوْفٍ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ ـ صلى الله عليه وسلم ـ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ قِبَلَهُ وَقِيلَ قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ـ صلى الله عليه وسلم ـ قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ قَدْ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ ‏.‏ ثَلاَثًا فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لأَنْظُرَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلَ شَىْءٍ سَمِعْتُهُ تَكَلَّمَ بِهِ أَنْ قَالَ ‏ "‏ يَا أَيُّهَا النَّاسُ أَفْشُوا السَّلاَمَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الأَرْحَامَ وَصَلُّوا بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلاَمٍ ‏"‏ ‏.‏

Grade: Sahih (Darussalam)

Reference : Sunan Ibn Majah 3251

In-book reference : Book 29, Hadith 1

English translation : Vol. 4, Book 29, Hadith 3251

جنت میں لے جانے والے اعمال

نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

جنت میں جانے کیلئے جو اعمال درکار ہیں ان کو یہاں پر احادیث صحیحہ کی روشنی میں مع حوالہ کتب و حدیث نمبر پیش کیے جاتے ہیں:


ﷲ اور اس کے رسول صلی ﷲ علیہ وسلم اور دین اسلام پر ایمان لانے میں خوشی محسوس کرنا

حضرت ابو سعید خدری رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: 

'' جس شخص نے یوں کہا : میں ﷲ کے رب ہونے پر ، اسلام کے دین ہونے پر اور محمد صلی ﷲ علیہ وسلم کے رسول ہونے پر راضی ہوں اس کیلئے جنت واجب ہوگئی .'' 

(ابوداؤد ، 1353/1)

(2)   رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کی اطاعت کرنا:

حضرت ابو ھیریرة رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: 

''میری تمام امت جنت میں داخل ہوگی مگر جس نے انکار کیا ( وہ جنت میں داخل نہیں ہوگا) '' صحابہ کرام رضوان ﷲ اجمعین نے عرض کیا '' یا رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کس نے انکار کیا ؟'' آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا '' جس نے میری اطاعت کی وہ جنت میں داخل ہوگیا اور جس نے نافرمانی کی اس نے انکار کیا.''  

( بخاری ،2797)

(3) نرم مزاجی ، عاجزی ، نرم دلی اور حلیم الطبع صفات:

حضرت ابوھریرة رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا: 

'' جنت میں ایسے لوگ داخل ہوں گے جن کے دل چڑیوں جیسے ہوں گے''.(یعنی چڑیوں کی طرح ان کے دل نرم ہوں گے)

(مسلم،2840)

(4) غریبی، فقیری اور محتاجی:

حضرت حارثہ بن وھب رضی ﷲ عنہ نے نبی اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا '' کیا تمہیں بتاؤں جنت میں جانے والے لوگ کون ہیں؟
'' صحابہ کرام نے عرض کیا '' کیوں نہیں''
آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا '' 
ہر ناتواں ، لوگوں کے نزدیک کمزور ( لیکن ﷲ کے نزدیک برگزیدہ) اگر (کسی معاملے میں) ﷲ کی قسم کھالے تو ﷲ اسے سچا کردے '' . 
پھر فرمایا '' کیا میں تمہیں جہنم میں جانے والے لوگوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟'' 
صحابہ کرام نے عرض کیا '' کیوں نہیں '' 
آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا '' ہر جھگڑالو، بداخلاق اور تکبر کرنے والا ''

(مسلم،2853 )

(5) سنت مؤکدہ ادا کرنا :

حضرت ام حبیبہ رضی ﷲ عنہا رسول اکرم صلی ﷲ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے کہ '' جو شخص روزانہ ﷲ کی رضا کیلئے فرضوں کے علاوہ بارہ رکعت نوافل ادا کرتا ہے ﷲ تعالیٰ اس کے لئے جنت میں ایک گھر بناتا ہے.'' 

( مسلم،728)

(6) شرک سے بچنا، نماز اور زکوة کی ادائیگی کرنا اور صلہ رحمی کرنا:

حضرت ابو ایوب رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم صلی ﷲ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا مجھے کوئی ایسے عمل بتائیے جو مجھے جنت کے قریب اور جہنم سے دور کردے آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا '' ﷲ کی بندگی کر اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرا ، نماز قائم کر ،زکوة ادا کر اور رحم والوں سے تعلق قائم رکھ''. جب وہ آدمی واپس پلٹا تو رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا'' جن باتوں کا اسے حکم دیا گیا ہے اگر ان پرعمل کیا تو جنت میں داخل ہوگا'' 

(مسلم،13)

(7) خوش اخلاقی، تہجد گزاری، نفلی روزے رکھنا اور دوسروں کو کھانا کھلانا:

حضرت علی رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا'' جنت میں ایسے محل ہیں جن کے اندر (کھڑے ہوں) تو باہر کی ہر چیز نظر آتی ہے اور باہر(کھڑے ہوں) تو اندر کی ہر چیز نظر آتی ہے ''.ایک اعرابی نے کھڑے ہو کر عرض کیا'' اے ﷲ کے نبی صلی ﷲ علیہ وسلم ! یہ کس آدمی کے لئے ہے؟'' آپ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا '' اس کے لئے ہے جو اچھی بات کرے، کھانا کھلائے ، بکثرت روزے رکھے اور جب لوگ مزے کی نیند سو رہے ہوں اٹھ کر نماز پڑھے .'' 

(ترمذی ، حدیث حسن 2051/2 )

(8) عدل کرنا، پاکبازی ، نرم دلی اور دوسروں سے سوال نہ کرنا:

حضرت عیاض بن حمار مجاشعی رضی ﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے ایک روز اپنے خطبہ میں ارشاد فرمایا '' جنت میں جانے والے تین قسم کے لوگ ہیں 

(1) حاکم، انصاف کرنے والا ، سچ بولنے والا اور نیک کاموں کی توفیق دیا گیا 

(2) وہ شخص جو ہر قرابت دار اور ہر مسلمان کے لئے مہربان اور نرم دل ہے

(3) وہ شخص جو پاک دامن ہے اور عیالداری کے باوجود کسی سے سوال نہیں کرتا.''

(مسلم،2865)

(9) شریف مزاجی، لوگوں کا محبوب بننا:

حضرت عبد ﷲ بن مسعود رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں رسول ﷲ صلی ﷲ وسلم نے فرمایا'' ہر وہ شخص جو نرم دل ہے شریف النفس ، منکسر مزاج ہے اور لوگوں سے قریب(یعنی ہر دلعزیز) ہے اس پر جہنم کی آگ حرام ہے.''

(احمد، صحیح البانی ، دیکھیں الجامع صغیر، جلد سوم ، حدیث 3130)

(10) دو یا دو سے زیادہ بیٹیوں کی پروارش کرنا:

حضرت انس بن مالک رضی ﷲ عنہ کہتے ہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم نے فرمایا'' جس نے دو لڑکیوں کو ان کے جوان ہونے تک پالا پوسا قیامت کے دن میں اور وہ اس طرح آئیں گے اور آپ صلی اﷲ علیہ وسلم نے انگلیوں کو آپس میں ملایا .'' 

(مسلم،2631)

No comments:

Post a Comment